دنیا
24 Misre
- عنایت نامہ ہاے اہل دنیا ہر زہ عنواں ہیں
- کیا ہے ترک دنیا کاہلی سے
- کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ
- یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
- دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- اٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے
- دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
- دل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا
- دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
- کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
- دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا
- ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
- تجھ سے دنیا میں بچھا مائدہ بذل خلیل
- بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
- درد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں
- جانتا ہوں کہ آج دنیا میں
- یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
- ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں
- پشت و رخ آئنہ ہے دین و دنیا
- گیتی اور گیہاں ہے دنیا یاد رکھ