دن
69 Misre
- نفس ہو نہ معزول شعلہ در و دن
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- خدایا دل کہاں تک دن بصد رنج و تعب کاٹے
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
- کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
- جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں
- اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
- دیکھیے کب دن پھریں حمام کے
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
- ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
- مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
- کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
- کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
- بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
- کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
- قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
- جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
- کف افسوس سو دن عہد تجدید تمنا ہے
- اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
- کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
- موت کا ایک دن معین ہے
- کوئی دن گر زندگانی اور ہے
- وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
- ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
- ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
- اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن
- رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
- دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے
- کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور
- رات کو آگ اور دن کو دھوپ
- ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
- گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری
- تین دن مسہل سے پہلے تین دن مسہل کے بعد
- تین مسہل تین تبریدیں یہ سب کے دن ہوے
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- بارے دو دن کہاں رہا غائب
- عذر میں تین دن نہ آنے کے
- سو اس اکیس دن میں ہولی کی
- ایک دن مثل پتنگ کاغذی
- ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں
- آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
- لیل یعنی رات دن اور روز یوم
- جمعے کے دن وعدہ ہے دیدار کا
- پل پہ چل ہے آج دن اتوار کا