دماغ
54 Misre
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- دماغ زہد میں آخر غرور بے گناہی ہے
- گراں جانی سبک ساز و تماشا بے دماغ آیا
- بہ بوے زلف مشکیں یہ دماغ آشفتۂ رم ہیں
- ساغر بہ بارگاہ دماغ رسیدہ کھینچ
- اسد مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- دماغ ناز کش منت طبیباں ہے
- بہار گل دماغ نشۂ ایجاد مجنوں ہے
- دماغ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
- جوہر آئنہ فکر سخن ہوے دماغ
- اے دماغ نارسا خم خانۂ منزل نہ پوچھ
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
- ہوئی ہے ناتوانی بے دماغ شوخی مطلب
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- عرش پر تیرے قدم سے ہے دماغ گرد رہ
- موے دماغ وحشت سر رشتۂ فنا ہے
- خمخانۂ جنوں میں دماغ رسیدہ ہوں
- بے دماغ تپش و عرض دو عالم فریاد
- شعر کی فکر کو اسدؔ چاہیے ہے دل و دماغ
- واے کہ یہ فسردہ دل بیدل و بے دماغ ہے
- یعنی دماغ غفلت ساقی رسیدہ تر
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- یاں ہے کہ داغ لالہ دماغ بہار ہے
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغ
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- اسدؔ مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
- کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا
- نافہ دماغ آہوئے دشت تتار ہے
- اے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
- وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں
- جسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- آتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاک
- نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
- مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
- ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
- دماغ عطر پیراہن نہیں ہے
- پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- ابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا؟
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- نہ سر و برگ ستایش نہ دماغ نفریں
- کس قدر فکر کو ہے نال قلم موے دماغ
- گرد باد آئنہ فتراک دماغ دل ہا
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ