دم
68 Misre
- سر شک چشم یار آب دم شمشیر ابرو ہے
- ہے دم سرد صبا سے گرمی بازار باغ
- یا علی وقت عنایات و دم تائید ہے
- دل بیتاب کہ سینے میں دم چند رہا
- بہ دم چند گرفتار غم چند رہا
- فزوں ہوتا ہے ہر دم جوش خونباری تماشا ہے
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- سیاہی جیسے گرجاوے دم تحریر کاغذ پر
- دم تیغ توکل سے اگر پاے سبب کاٹے
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- آگ بھڑکی منہ اگر دم بھر کھلا
- لطف نظارۂ قاتل دم بسمل آئے
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- دم صبح قیامت در گریبان قبا گم ہو
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- دم جب کہ بہ وقت نزع توڑے
- سوداے عشق سے دم سرد کشیدہ ہوں
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم
- روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
- دے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دم
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- اسد کو حسرت عرض نیاز تھی دم قتل
- ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب
- یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
- ناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
- رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
- جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں
- پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- نالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو
- برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو
- تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
- دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
- جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
- واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- کشش دم نہیں بے ضابطۂ جر ثقیل
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت
- کھلے یہ گانٹھ تو البتہ دم نکل جاوے
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- رعد کا کر رہی ہے کیا دم بند
- نیابت دم عیسی کرے ہے جس کی نگاہ
- کبھی جو ہوتی ہے الجھی ہوئی دم روباہ
- بال رعنائی دم موجۂ گلبند قبا
- صبح دم دروازۂ خاور کھلا
- دم واپسیں بر سر راہ ہے
- جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
- بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو