دل
728 Misre
- دل خستگاں کو ہے طرب صد چمن بہار
- چھوڑے نہ چشم میں تپش دل نشان اشک
- ممکن نہیں کہ ہو دل خوباں میں کارگر
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- اقبال کلفت دل بے مدعا رسا
- حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بسوئے دل
- دز دیدن دل ستم آمادہ ہے محال
- زبان ہر سر مو حال دل پر سیدنی جانے
- ستم کشی کا کیا دل نے حوصلہ پیدا
- پختگی ہاے کباب دل ہوئی خامی تری
- میرے کام آئی دل مایوس ناکامی تری
- یک طرف جلتا ہے دل اور یک طرف جلتا ہوں میں
- جس دل میں کہ تابکے سماجائے
- اپنا احوال دل زار کہوں یا نہ کہوں
- اپنے دل ہی سے میں احوال گرفتاری دل
- دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمن جانی میرا
- تصور بہر تسکین تپیدن ہاے طفل دل
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- عیادت سے زبس ٹوٹا ہے دل یاران غمگیں کا
- تپیدن دل کو سوز عشق میں خواب فرامش ہے
- نگہبان دل ہاے اغیار ہیں ہم
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- بدست آوردن دل گوہر دریاے شاہی ہے
- فغان دل بہ پہلو نالۂ بیمار بدخو ہے
- دل آئینہ زیر پاے خیل مور ملتے ہیں
- کف گل برگ سے پاے دل رنجور ملتے ہیں
- دل و جگر تف فرقت سے جل کے خاک ہوئے
- کہ بہر مدعاے دل زبان لال زنداں ہے
- کرے گر فکر تعمیر خرابی ہائے دل گردوں
- مژہ فرش رہ و دل ناتواں و آرزو مضطر
- مدعا محو تماشاے شکست دل ہے
- دل پس زانوے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
- نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
- لخت دل سے لاوے ہے شمع خیال آباد گل
- گلشن آباد دل مجروح میں ہوجاے ہے
- شیون دل یک سرود خانۂ ہمسایہ ہے
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- مدعی میری صفاے دل سے ہوتا ہے خجل
- دل کو توڑا جوش بیتابی سے غالب کیا کیا
- نا امیدی ہے پرستار دل رنجیدہ
- چاہیے خاطر جمع و دل آرامیدہ
- تا دل شب آبنوسی شانہ آسا چاک ہے
- عرض وحشت پر ہے ناز ناتوانی ہاے دل
- واں سے ہے تکلیف عرض بے دماغی ہاے دل
- پیچ تاب دل نصیب خاطر آگاہ ہے
- صاحب دل ہا وکیل حضرت اللہ ہے
- ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم
- بسان جوہر آئینہ از ویرانی دل ہا
- دل دے کف تغافل ابروے یار میں
- کس کو دوں یارب حساب سوزناکی ہائے دل
- جوں صنوبر دل سراپا قامت آرائی نہیں
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- خوشترز گل و غنچہ چشم و دل ساقی ہے
- ہووے نہ غبار دل تسلیم زمیں گیراں
- دل در گداز نالہ نگہ آبیار تر
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- غنچے میں دل تنگ ہے حوصلۂ گل ہنوز
- دل میں ہے سوداے زلف مست تغافل ہنوز
- عشق کمیں گاہ درد وحشت دل دور گرد
- لذت تقریر عشق پردگی گوش دل
- نقد ہے داغ دل اور آتش زبانی مفت ہے
- زخم دل پر باندھیے حلواے مغز استخواں
- برور نکشودۂ دل پاسبانی مفت ہے
- پس بہ دل ہاے و گر راحت رسانی مفت ہے
- دامان دل بہ وہم تماشا نہ کھینچیے
- واماندگی بہانہ و دل بستگی فریب
- اے دل بہ خیال عارض یار
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- دیکھ تری خوے گرم دل بہ تپش رام ہے
- گرم تکلیف دل رنجیدہ ہے از بس کہ چرخ
- رنجش دل یک جہاں ویراں کرے گی اے فلک
- دل بیتاب کہ سینے میں دم چند رہا
- دل بیمار از خود رفتہ تصویر نہالی ہے
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- غالبؔ بدوش دل خم مستاں اٹھائیے
- دل سراپا وقف سوداے نگاہ تیز ہے
- ہوئی ہے سوزش دل بس کہ داغ بے اثری
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- اے دل از کف دادۂ غفلت پشیمانی عبث
- لب گزیدۂ معشوق ہے دل افگار
- طلسم مستی دل آں سوے ہجوم سر شک
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- ہزار دل بہ وداع قرار رکھتے ہیں
- بسان دشت دل پر غبار رکھتے ہیں
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- نالہ خونیں ورق و دل گل مضمون شفق
- باغ خاموشی دل سے سخن عشق اسدؔ
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- غم و عشرت قدم بوس دل تسلیم آئیں ہے
- طوفان نالۂ دل تا موج بوریا ہے
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- گرچہ ہے یک بیضۂ طاؤس آسا تنگ دل
- ہے چمن سرمایۂ بالیدن صد رنگ دل
- ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
- عقدہ ساں ہے کیسۂ زر پر خیال تنگ دل
- کس قدر ہے نشہ فرساے خمار بنگ دل
- کھینچتا ہے آج نالے خارج از آہنگ دل
- ظاہرا رکھتا ہے آئینۂ اسیر زنگ دل
- جراحت ہاے دل سے جوہر شمشیر ہے پیدا
- ہجوم گریہ سوے دل خوشا سرمایۂ طوفاں
- تماشا ہے علاج بے دماغی ہاے دل غافل
- دیدار طلب ہے دل واماندہ کہ آخر
- جنبش دل سے ہوے ہیں عقدہ ہاے کار وا
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- ہر عضو غم سے ہے شکن آسا شکستہ دل
- جوں زلف یار ہوں میں سراپا شکستہ دل
- ہوں جوں خط شکستہ بہر جا شکستہ دل
- ہے چشم اشک ریز سے دریا شکستہ دل
- امید و نا امید و تمنا شکستہ دل
- صہبا فتادہ خاطر و مینا شکستہ دل
- چشم بے خون دل و دل تہی از جوش نگاہ
- اسدؔ طرز عروج اضطراب دل کو کیا کہیے
- دل کی صداے شکست ساز طرب ہے اسدؔ
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
- مفت دل و جگر خلش غمزہ ہاے ناز
- بے تابی دل تپش انگیز یک طرف
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- جوش دل ہے مجھ سے حسن فطرت بیدل نہ پوچھ
- پہن گشتن ہاے دل بزم نشاط گردباد
- شمع سے جز عرض افسون گداز دل نہ پوچھ
- بقدر مصلحت دل بستگی تدبیر بہتر ہے
- دل آگاہ تسکیں خیز بیدردی نہ ہو یارب
- خدایا چشم یا دل درد ہے افسون آگاہی
- دعاے دل بہ محراب خم شمشیر بہتر ہے
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- بوے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- وا شگفتن ہاے دل در رہن مضموں ہے مجھے
- دہن شیر میں جا بیٹھیے لیکن اے دل
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- تغافل آئنہ دار خموشی دل ہے
- بہ کام دل کریں کس طرح گمرہاں فریاد
- دل گرم تپش قاصد ہے پیغام تسلی کا
- غبار راہ ویرانی ہے ملک دل کی آبادی
- کرتا ہے بیاد بت رنگیں دل مایوس
- ہے بالش دل سوختگاں میں پر طاؤس
- دیکھ کر بادہ پرستوں کی دل افسردگیاں
- خواہش دل ہے زیاں کو سبب گفت و بیاں
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- حسرت نشہ وحشت نہ بہ سعی دل ہے
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- فہم زنجیری بے ربطی دل ہے یارب
- حریف عرض سوز دل نہیں ہے
- دل نالاں سے ہے بے پردہ پیدا
- ہر شکست قیمت دل میں صداے خندہ ہے
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناے خندہ ہے
- دل محیط گریہ و لب آشناے خندہ ہے
- خدایا دل کہاں تک دن بصد رنج و تعب کاٹے
- ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرم نارسائی سے
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلا کروں
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- نقد صد دل بگریبان سحر پنہاں ہے
- خلوت دل میں نہ کر دخل بجز سجدہ شوق
- وحشت دل ہے اسدؔ عالم نیرنگ نشاط
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- گداز دل کو کرتی ہے کشود چشم شب پیما
- صد جنبش دل یک مژہ برہم زدنی ہے
- اے دل و جان خلق تو ہم کو آشنا سمجھ
- واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
- سوز دل کا کیا کرے باران اشک
- اے دل و اے جان ناز اے دین و اے ایمان عجز
- کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوں
- ہر چند بمقدار دل تنگ نکالوں
- گر دیدہ و دل صلح کریں جنگ نکالوں
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- زخم ہاے کہنہ دل رکھتے ہیں جوں مردگی
- تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا
- اے شعلۂ فرصتے کہ سویداے دل سے ہوں
- کوچہ دے ہے زخم دل صبح وطن کی فکر میں
- دل مدعی و دیدہ بنا مدعَی علیہ
- قطرۂ اشک دل بر صف مژگاں زدہ ہے
- یک شرر بال دل و دیدہ چراغاں زدہ ہے
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینہ دل کا
- نہ بندھا تھا بہ عدم نقش دل مور ہنوز
- زخم دل میں ہے نہاں غنچۂ پیکان نگار
- محبت بے نوا ساز فغاں در پردۂ دل ہا
- بھرا ہے دہر بے دردی سے دل کیجیے کہاں خالی
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- نہ پایا درد مند دوری یاران یک دل نے
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- ہے دل افسردہ داغ شوخی مطلب اسدؔ
- دل از اضطراب آسودہ طاعت گاہ داغ آیا
- زخود گزشتن دل کاروان حیرت ہے
- زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
- شکست قیمت دل آں سوے عذر شناسائی
- ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
- موجۂ ریگ سے دل پاے بہ زنجیر آوے
- چاک دل شانہ کش طرّہ تحریر آوے
- رات دل گرم خیال جلوۂ جانانہ تھا
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- شکوۂ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
- خوں کر دل اندیشہ و مضمون ستم باندھ
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- جو چاہے کرے پہ دل نہ توڑے
- نذر مژہ کر دل و جگر کو
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- دل آزردہ پسند آئینہ رخساروں کا
- جرس قافلہ یاں دل ہے گرانباروں کا
- جلوہ مایوس نہیں دل نگرانی غافل
- پاے صد موج بہ طوفاں کدۂ دل باندھا
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- وسعت جیب جنون تپش دل مت پوچھ
- پر طاؤس سے دل پائے بہ زنجیر آیا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- گرمیٔ برق تپش سے زہرٔ دل آب تھا
- نالۂ دل میں شب انداز اثر نایاب تھا
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- کل تلک تیرا بھی دل مہرو وفا کا باب تھا
- ایک دل تھا کہ بصد رنگ دکھایا ہے مجھے
- یک بیاباں دل بیتاب اٹھایا ہے مجھے
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- خانۂ آگہی خراب دل نہ سمجھ بلا سمجھ
- گوش ہا سیمابی و دل بے قرار نغمہ ہے
- لطف خمار مے کو ہے در دل ہمدگر اثر
- داغ دل سیہ دلاں مردم چشم زاغ ہے
- دل سے اٹھے ہے جو غبار گرد سواد باغ ہے
- شعر کی فکر کو اسدؔ چاہیے ہے دل و دماغ
- واے کہ یہ فسردہ دل بیدل و بے دماغ ہے
- جوں شمع دل بخلوت جانا نہ کھینچیے
- بہزاد نقش یک دل صد چاک عرض کر
- یک عمر دامن دل دیوانہ کھینچیے
- دل تامژہ آغوش وداع نظر آوے
- دل فرش رہ ناز ہے بیدل اگر آوے
- کیفیت دیگر ہے فشار دل خونیں
- محفل سے مگر شمع کو دل تنگ نکالوں
- فریاد اسدؔ غفلت رسوائی دل سے
- کیا یکسر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- ضبط سوز دل ہے وجہ حیرت اظہار حال
- چشم مور آئنۂ دل نگرانی مانگے
- جوں چشم باز ماندہ ہے ہر یک بسوے دل
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- حضرت زلف میں جوں شانہ دل چاک چڑھا
- نالۂ دل بہ کمر دامن قطع شب تھا
- دل شب آئینہ دار تپش کوکب تھا
- پردۂ درد دل آئینہ صد رنگ نشاط
- دل ناسوختہ آتش کدۂ صد تب تھا
- دل دیوانہ کہ دارستۂ ہر مذہب تھا
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- دل در رکاب صحرا خانہ خراب صحرا
- ہر ذرہ یک دل پاک آئینہ خانہ بے خاک
- سر میں ہواے گلشن دل میں غبار صحرا
- اسدؔ نے کثرت دل ہاے خلق سے جانا
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- ہو سکے کب کلفت دل مانع سیلان اشک
- لخت لخت دل نگین خانۂ زنجیر ہے
- جو بشام غم چراغ خلوت دل تھا اسدؔ
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- نشان روشنی دل نہاں ہے تیرہ بختوں کا
- شب دراز و آتش دل تیز یعنی مثل شمع
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
- از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- سیماب بالش و کمر دل ہے آئنہ
- دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دل
- دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
- اے دل ناعاقبت اندیش ضبط شوق کر
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- نالۂ خونیں ورق و دل گل مضمون شفق
- باغ خاموشیٔ دل سے سخن عشق اسدؔ
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- مدعا محو تماشائے شکست دل ہے
- دل پس زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشے
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا
- دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
- بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
- چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
- اے ساکنان کوچۂ دل دار دیکھنا
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
- ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ
- خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
- میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
- دل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- مژہ فرش رہ و دل ناتوان و آرزو مضطر
- کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ
- آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشنا
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- عجز ہمت نے طلسم دل سائل باندھا
- گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- نامۂ شوق بہ حال دل بسمل باندھا
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- آخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
- پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
- فراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
- تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
- دل مدعی و دیدہ بنا مدعا علیہ
- ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
- دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہی
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- نمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- تپش دل شکستہ پئے عبرت آگہی ہے
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- اگر آرزو رسا ہو پئے درد دل دوا ہو
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- کہ سرشک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
- سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
- خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
- دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
- اے غم ہنوز آتش اے دل ہنوز خامی
- ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
- کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہو
- دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایعنی
- نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوری
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب
- بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- پڑا رہ اے دل وابستہ بیتابی سے کیا حاصل
- حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں
- نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے
- بہ رنگ شیشہ ہوں یک گوشۂ دل خالی
- کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے
- ایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے
- رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے
- رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے
- لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- دیکھو تو دل فریبی انداز نقش پا
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار وا
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
- دل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا
- دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے
- یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
- دل میں ہے یار کی صف مژگاں سے روکشی
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاں
- درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- ہے دل افسردہ داغ شوخیٔ مطلب اسدؔ
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- دل و دست ارباب ہمت سلامت
- نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- دل ز کار جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں
- کہ داغ دل بہ جبین کشادہ رکھتے ہیں
- دل بہ دست نگارے ندادہ رکھتے ہیں
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
- ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب
- وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
- مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا
- دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا
- عصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- فہم زنجیریٔ بے ربطیٔ دل ہے یارب
- لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر
- ہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ باد
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- شب کہ ذوق گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
- دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا
- جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا
- یہ دل وابستہ گویا بیضۂ طاؤس تھا
- دست برسر سر بہ زانوئے دل مایوس تھا
- داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
- دل خوں شدۂ کشمکش حسرت دیدار
- جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے
- خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کو
- تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
- دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت درد
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- غالبؔ بہ دوش دل خم مستاں اٹھائیے
- ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے
- اے تازہ واردان بساط ہوائے دل
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناۓ خندہ ہے
- دل محیط گریہ و لب آشناۓ خندہ ہے
- ہر شکست قیمت دل میں صداۓ خندہ ہے
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام
- دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
- دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
- حلقے ہیں چشم ہاۓ کشادہ بہ سوئے دل
- اقبال کلفت دل بے مدعا رسا
- دزدیدن دل ستم آمادہ ہے محال
- ہر گام آبلے سے ہے دل در تہ قدم
- ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی
- ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم
- غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- جس دل میں کہ تابکے سما جائے
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
- میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
- لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
- بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر
- دل خونیں جگر بے صبر و فیض عشق مستغنی
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- ہیں جمع سویداۓ دل چشم میں آہیں
- کس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آرا
- کھینچوں ہوں سویداۓ دل چشم سے آہیں
- کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
- پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق
- پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل
- باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
- دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
- عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے
- پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا
- جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے
- اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- کیا یک سر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
- ہنس کے بلوائیے مٹ جائے گا سب دل کا گلہ
- دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل
- بہ کوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ
- بروئے سفرہ کباب دل سمندر کھینچ
- دل گداختہ کے میکدے میں ساغر کھینچ
- چشم مور آئینۂ دل نگرانی مانگے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
- مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید
- نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل كا
- نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
- اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- ہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کو
- تماشا کردنی ہے لطف زخم انتظار اے دل
- دل و دین و خرد تاراج ناز جلوہ پیرائی
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ ولیکن ناچار
- ولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دے
- کبھی زمانہ مراد دل خراب تو دے
- دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
- دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
- اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
- تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
- دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
- دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت
- چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- نہ پایا دردمند دوریٔ یاران یک دل نے
- دل جگر تشنۂ فریاد آیا
- عذر واماندگی اے حسرت دل
- دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
- دل گم گشتہ مگر یاد آیا
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- دل خریدار ذوق خواری ہے
- دل ہوائے خرام ناز سے پھر
- دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا
- صبح کے مانند زخم دل گریبانی کرے
- دیدۂ دل کو زیارت گاہ حیرانی کرے
- ہے شکستن سے بھی دل نومید یارب کب تلک
- چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- نالۂ دل نغمہ ریزاں ہے بہ مضراب خیال
- باوجود دل جمعی خواب گل پریشاں ہے
- خدایا جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
- آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
- داغ دل گر نظر نہیں آتا
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
- غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا
- زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا
- وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- دل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے
- دل سراپا وقف سودائے نگاہ تیز ہے
- یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
- آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
- نظارہ دیگر و دل خونیں نفس دگر
- دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے
- دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
- تنگئ دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
- چٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے
- بہ سیل اشک لخت دل ہے دامن گیر مژگاں کا
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے
- دل خوں گشتہ در دست حنا آلودہ عریاں ہے
- اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر
- رہا بے قدر دل در پردۂ جوش ظہور آخر
- تماشا سرخوش غفلت ہے با وصف حضور دل
- جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
- وحشت آتش دل سے شب تنہائی میں
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے
- خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
- دل میں چھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
- ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
- ہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
- شکست شیشۂ دل کی صدا کیا
- کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
- ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- جز دل سراغ درد بہ دل خفتگاں نہ پوچھ
- تو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار
- ہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے
- مینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
- باغ شگفتہ تیرا بساط نشاط دل
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
- کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
- ہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا
- تپش دل نہیں بے رابطۂ خوف عظیم
- وہی رونا تن و دل و جاں کا
- کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
- دونوں کے دل حق آشنا دونوں رسول پر فدا
- کرکے دل و زبان کو غالبؔ خاکسار ایک
- بندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض
- تازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن
- نسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
- ہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- تپش دل شکستہ پئے عبرت آگہی ہے
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- اگر آرزو رسا ہو پے درد دل دوا ہو
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- کہ سر شک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- سر کرے ہے دل حیرت زدہ شغل تسکیں
- کس نے پایا اثر نالۂ دل ہاے حزیں
- وحشت دل سے پریشاں ہیں چراغان خیال
- گرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں
- نامہ عنوان بیان دل آزردہ نہیں
- درد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں
- مظہر فیض خدا جان و دل ختم رسل
- جاں پناہا دل و جاں فیض رسانا شاہا
- تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
- خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
- داد دیوانگی دل کہ ترا مدحت گر
- دل الفت نسب و سینۂ توحید فضا
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے
- راز دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہے
- دل کے لینے میں جن کو تھا ابرام
- قبلۂ چشم و دل بہادر شاہ
- دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
- سمجھا اسے گراب ہوا پاش پاش دل
- روان روشن و خوے خوش و دل آگاہ
- بس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم
- ساز عریانی کیفیت دل ہے لیکن
- نگہ آئنہ کیفیت دل سے دوچار
- کہ ہوا ساغر بے حوصلۂ دل سرشار
- دل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار
- بیم سے جس کے دل شحنۂ تقدیر فگار
- مطلع تازہ ہوا موجۂ کیفیت دل
- دل پروانہ چراغاں پر بلبل گلزار
- گرد باد آئنہ فتراک دماغ دل ہا
- جوش جوہر سے دل آئنہ گلدستۂ خار
- دل وارستۂ ہفتا دو دو ملت بیزار
- بخیۂ زخم دل چاک بہ یک دستہ شرار
- دل عاشق شکن آموز خم طرۂ یار
- دل آئینہ طرب ساغر بخت بیدار
- دید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق
- شاہ روشن دل بہادر شہ کو ہے
- لاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایک
- تھا دل وابستہ قفل بے کلید
- سمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا
- دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ
- ممکن نہیں یک زبان و یک دل ہونا
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- سامان ہزار جستجو یعنی دل
- ساغر کش خون آرزو یعنی دل
- منظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج
- ہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج
- مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
- ہاں دل دردمند زمزمہ ساز
- لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
- میں کہا اے دل ہوائے دلبراں
- قہر ہے دل ان سے الجھانا تجھے
- دل نے سن کر کانپ کر کھا پیچ و تاب
- از دل ہر درد مندی جوش بیتابی زدن
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- سر رشتۂ بیتابیٔ دل در گرہ عجز
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
- مانتا لیکن ہمارا دل نہیں
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی
- دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر