دعوی
13 Misre
- خانماں ہا پائمال شوخی دعوی ے اسدؔ
- دعوی عشق بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح
- شمع آسا چہ سر دعوی و کو پاے ثبات
- کرے کیا دعوی آزادی عشق
- دعوی جمعیت احباب جاے خندہ ہے
- دعوی دریا کشی و نشہ پیمائی عبث
- عالم تسلیم میں یہ دعوی آرائی عبث
- نزاکت ہے فسون دعوی طاقت شکستن ہا
- ہنوز دعوی تمکین و بیم رسوائی
- دست موسیٰ بہ سر دعوی باطل باندھا
- اے شمع تجھے دعوی ثابت قدمی ہے
- الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی
- رکھ لیجو میرے دعوی وارستگی کی شرم