دعا
27 Misre
- اسدؔ شکوہ کفر و دعا ناسپاسی
- ہیں دعا ہاے سحرگاہ سے خواہاں گل و صبح
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- اثر میں یاں تک اے دست دعا دخل تصرف کر
- سامان دعا وحشت و تاثیر دعا ہیچ
- یک درد و صد دوا ہے یک دست و صد دعا ہے
- مژگان باز ماندہ سے دست دعا بلند
- جوں پنجۂ خرشید ہو اے دست دعا گرم
- دعا قبول ہو یا رب کہ عمر خضر دراز
- غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
- میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
- رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
- گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
- جز بہر دست و بازوئے قاتل دعا نہ مانگ
- یعنی دعا بجز خم زلف دوتا نہ مانگ
- یا رب ملے بلندیٔ دست دعا مجھے
- ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام
- مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخن
- یہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے
- دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- یعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں
- جوہر دست دعا آئنہ یعنی تاثیر
- اے ہمہ بے مدعائی یک دعا ہو جائیے