دشمن
30 Misre
- دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمن جانی میرا
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
- کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
- مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- غرور دوستی آفت ہے تُو دشمن نہ ہو جاوے
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
- بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
- عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- علی الرغم دشمن شہید وفا ہوں
- ساقی بہ جلوہ دشمن ایمان و آگہی
- اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا
- ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
- نہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست دشمن کو
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
- دشمن سمجھ ولے نگۂ آشنا نہ مانگ
- لکھ دیا عاشقوں کو دشمن کام
- دشمن حسرت عاشق ہے رگ ابر سیاہ
- دشمن آل نبی کو بطرب خانۂ دہر
- وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن
- یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں