دشت
45 Misre
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- اے خار دشت دامن شوق رمیدہ کھینچ
- مجنون دشت عشق تحیر شکار تر
- یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
- جادۂ ہر دشت تار دامن قاتل ہوا
- دشت الفت میں ہے خاک کشتگاں محبوس و بس
- دشت ساماں ہے غبار خاطر آزردگاں
- نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
- بسان دشت دل پر غبار رکھتے ہیں
- ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
- تہی آغوشی دشت تمنا کا ہوں فریادی
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- دشت و ریگ آئنۂ صفحۂ افشاں زدہ ہے
- قیس بھاگا شہر سے شرمندہ ہو کر سوے دشت
- میں دشت غم میں آہوئے صیاد دیدہ ہوں
- اے اسدؔ رویا جو دشت غم میں میں حیرت زدہ
- قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- خضرؔ مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کا
- جو بعد قتل مرا دشت میں مزار بنا
- محمل دشت بہ دوش رم نخچیر آیا
- غبار دشت وحشت سرمہ ساز انتظار آیا
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- نافہ دماغ آہوئے دشت تتار ہے
- اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
- جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
- قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے
- یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
- دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
- ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
- کہ دشت و کوہ کے اطراف میں بہر سر راہ
- بن گیا دشت دامن گلچیں
- گرد اس دشت کی امید کو احرام بہار
- جادۂ دشت نجف عمر خضر کا طومار
- دشت الفت چمن و آبلہ مہماں پرور
- فرش اس دشت تمنا میں نہ ہوتا گر عدل
- دشت تسخیر ہو گر گرد خرام دلدل
- دشت صحرا اور جنگل ایک ہے