دستگاہ
4 Misre
قطرے کو جوش عرق کرتا ہے دریا دستگاہ
یقین ہے آدمی کو دستگاہ فقر حاصل ہو
افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو
خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
د
All Letters