دست
103 Misre
- آئینہ یک دست رد امتناع جلوہ ہے
- دست رد سطر تبسم یک قلم انشا کرے
- ہے مساس دست افسوس آتش انگیز تپش
- مانند نبض دست بریدہ
- ہے شانہ یکسر دست گزیدہ
- وگر نہ خاتم دست سلیماں فلس ماہی ہے
- کرے ہے دست فرسود ہوس وہم توانائی
- کہ ظاہر پنجۂ خرشید دست زیر پہلو ہے
- بسان شانہ زینت ریز ہے دست سلام اس کا
- ورنہ تھا خرشید یک دست سوال
- دست رنگیں سے جو رخ پروا کرے زلف رسا
- پنجۂ مژگاں بہ طفل اشک دست دایہ ہے
- پشت دست عجزیاں ہر برگ نخل طور ہے
- پنجۂ خرشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- مال و جاہ و دست و پا بے زر خریدہ ہیں اسدؔ
- ہیں رقیبانہ بہم دست و گریباں گل و صبح
- دست ہوس بہ گردن مینا نہ کھینچیے
- مگر یک دست و دامان نگاہ واپسیں پایا
- ہوسکے کیا خاک دست و بازوے فرہاد سے
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- دست برہم سودہ ہے مژگان خوابیدہ اسدؔ
- کشاد عقد محو ناخن دست نگاریں ہے
- حنا سے دست و خون کشتگاں سے تیغ رنگیں ہے
- کمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں
- حسرت دست گہ و پاے تحمل تا چند
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- بروے قیس دست شرم ہے مژگان آہو سے
- سر شک آگیں مژہ سے دست از جاں شستہ ابرو تھا
- کہ دست آرزو سے یک قلم پاے طلب کاٹے
- کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیر ادب کاٹے
- کاسۂ دریوزہ ہے پیمانۂ دست سبو
- ہے دست رد بہ سیر جہاں بستن نظر
- آئینہ و شانہ ہمہ دست و ہمہ زانو
- گر کف دست بام ہے آئنے کو ہوا سمجھ
- ضعف آئنہ پردازی دست دگراں ہے
- فرسودن پاے طلب و دست ہوس کو
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- اثر میں یاں تک اے دست دعا دخل تصرف کر
- غرور دست رونے شانہ توڑا فرق ہدہد پر
- میں معرض مثال میں دست بریدہ ہوں
- دیکھ اس کے ساعد سیمین و دست پر نگار
- یک درد و صد دوا ہے یک دست و صد دعا ہے
- جوں اشک جب تلک نہ رکھوں دست و پا گرو
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- دست موسیٰ بہ سر دعوی باطل باندھا
- مژگان باز ماندہ سے دست دعا بلند
- داداز دست جفائے صدمۂ ضرب المثل
- جوں پنجۂ خرشید ہو اے دست دعا گرم
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
- چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
- دل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے
- دست شانہ بہ قضا باندھتے ہیں
- نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو
- کمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں
- ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
- دل و دست ارباب ہمت سلامت
- دل بہ دست نگارے ندادہ رکھتے ہیں
- بہ رنگ سبزہ عزیزان بد زباں یک دست
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- دست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا
- دست برسر سر بہ زانوئے دل مایوس تھا
- آئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے
- دست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے
- شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
- سلطنت دست بدست آئی ہے
- پنجۂ خورشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- خم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
- چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- دست گاہ دیدۂ خوں بار مجنوں دیکھنا
- داغ پشت دست عجز شعلہ خس بہ دنداں ہے
- داداز دست جفائے صدمہ ضرب المثل
- ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے
- جز بہر دست و بازوئے قاتل دعا نہ مانگ
- کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
- دل خوں گشتہ در دست حنا آلودہ عریاں ہے
- یا رب ملے بلندیٔ دست دعا مجھے
- ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
- نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- حاتم دست سلیماں کے مشابہ لکھیے
- بندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض
- ہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم
- ابر دست کرم کلب علی خاں سے مدام
- پایہ سنجان دست گاہ سخن
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست
- تیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں
- گر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام
- دست خالی و خاطر غمگیں
- زانوے آئنہ پرمارے ہے دست بے کار
- خون صد برق سے باندھے بکف دست نگار
- جوہر دست دعا آئنہ یعنی تاثیر
- پھینک دیتا طلاے دست افشار
- تھکا جب قطرۂ بے دست و پا بالا دویدن سے
- سینہ چھاتی دست ہاتھ اور پا پاؤں