دریا
43 Misre
- عکس گر طوفانی آئینۂ دریا کرے
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- دریا بساط دعوت سیلاب ہے اسدؔ
- قطرے کو جوش عرق کرتا ہے دریا دستگاہ
- اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا
- ہم ایک میکدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
- ہے چشم اشک ریز سے دریا شکستہ دل
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- نہیں ہے بازگشت سیل غیر از جانب دریا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- دعوی دریا کشی و نشہ پیمائی عبث
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- گرد ساحل سنگ راہ جوشش دریا نہیں
- بہار سنبلستان جلوہ گر ہے آں سوے دریا
- شوق عناں گسیختہ دریا کہیں جسے
- گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
- چشم دریا ریز ہے میزاب سرکار چمن
- رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب
- گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- دریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ کامی
- بھروں یک گوشۂ دامن گر آب ہفت دریا ہو
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
- گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
- عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- دریا زمین کو عرق انفعال ہے
- گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
- مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
- ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی
- استادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام
- آب پانی بحر دریا نہر جو