درد
92 Misre
- لیکن بسان درد کشیدہ
- ہوا نہ مجھ سے بجز درد حاصل صیاد
- اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
- دود مجمر لالہ ساں درد تہ پیمانہ تھا
- بے درد سر بہ سجدۂ الفت فرو نہ ہو
- درد طلب بہ آبلۂ نا دمیدہ کھینچ
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- عشق کمیں گاہ درد وحشت دل دور گرد
- درد طلب بہ آبلۂ پا نہ کھینچیے
- درد اسم حق سے دیدار صنم حاصل ہوا
- سنگ آمد و سخت آمد درد سر خودداری
- موزونی دو عالم قربان ساز یک درد
- نالہ دام ہوس و درد اسیری معلوم
- غبار آلودہ ہیں جوں درد شمع کشتہ تقریریں
- شکوہ درد و درد داغ اے بے وفا معذور رکھ
- عرض درد بے وفائی وحشت اندیشہ ہے
- درد آفریں ہے طبع الم خیز یک طرف
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- عبرت سے پوچھ درد پریشانی نگاہ
- خدایا چشم یا دل درد ہے افسون آگاہی
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- جلوہ نہیں ہے درد سر آئنہ صندلی نہ کر
- نہیں جز درد تسکین نکوہش ہاے بیدر داں
- نہ پایا درد مند دوری یاران یک دل نے
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- فغان و آہ سے حاصل بجز درد سر یاراں
- ربط تمیز اعیاں درد مئے صدا ہے
- یک درد و صد دوا ہے یک دست و صد دعا ہے
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- درد اظہار تپش کسوتی گل معلوم
- وحشت درد بیکسی بے اثر اس قدر نہیں
- بسمل درد خفتہ ہوں گریے کو ماجرا سمجھ
- درد ناپیدا و بیجا تہمت وارستگی
- درد آئنہ کیفیت صد رنگ ہے یارب
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- پردۂ درد دل آئینہ صد رنگ نشاط
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- سر پر ہجوم درد غریبی سے ڈالیے
- کہ ہوگا باعث افزائش درد دروں وہ بھی
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشنا
- ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- اگر آرزو رسا ہو پئے درد دل دوا ہو
- کرے کیا ساز بینش وہ شہید درد آگاہی
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- درد منت کش دوا نہ ہوا
- آخر اس درد کی دوا کیا ہے
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
- نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
- غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
- دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت درد
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
- کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
- ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب درد نومیدی
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- رشک ہم طرحی واماں درد اثر بانگ حزیں
- درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
- دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے
- سمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- عبرت سے پوچھ درد پریشانیٔ نگاہ
- جز دل سراغ درد بہ دل خفتگاں نہ پوچھ
- عرض فضاۓ سینۂ درد امتحاں نہ پوچھ
- درد جدائی اسدؔ اللہ خاں نہ پوچھ
- درد نا پیدا و بیجا تہمت وارستگی
- تھا میں اک درد مند سینہ فگار
- ایک طیش کا جانشیں درد کا یادگار ایک
- اگر آرزو رسا ہو پے درد دل دوا ہو
- درد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں
- درد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں
- اس کشمکش میں آپ کا مداح درد مند
- مژۂ خواب سے کرتا ہوں بآسایش درد
- محرم درد گرفتاری مستی معلوم
- ہوں درد ہلاک نامہ بر سے بیمار
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- ہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- بھرا ہے غالبؔ دلخستہ کے کلام میں درد
- از دل ہر درد مندی جوش بیتابی زدن