در
177 Misre
- آتا ہے آ وگرنہ یہ پا در رکاب ہے
- نفس در قالب خشت لحد دزدیدنی جانے
- یک در بر روے رحمت بستہ دور شش جہت
- ناتوانی سے نہیں سر در گریبانی اسدؔ
- شمع ہوں لیکن بپا در رفتہ خار جستجو
- گوش ہیں در پس دیوار کہوں یا نہ کہوں
- بہار در گرو غنچہ شہر جولاں ہے
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- ہے داغ لالہ در خوں طپیدہ
- نفس ہو نہ معزول شعلہ در و دن
- پر افشاندہ در کنج قفس تعویز بازو ہے
- بہ شغل انتظار مہو شاں در خلوت شب ہا
- کہ ہے تہ بندی خط سبزۂ خط در تہ لب ہا
- نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ یا رب ہا
- شاخ گل میں ہو نہاں جوں شانہ در شمشاد گل
- در خیال آباد سوداے سر مژگان دوست
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
- تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
- اے اسدؔ مایوس مت ہو از در شاہ نجف
- دل در گداز نالہ نگہ آبیار تر
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- دور بیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- در پر امیر کلب علی خاں کے ہوں مقیم
- شایستۂ گدائی ہر در نہیں ہوں میں
- صد نالہ اسدؔ بلبل در بند زباں دانی
- در تپش آباد شوق سرمہ صدا نام ہے
- جوں صدف پر در ہیں دنداں در جگر افشردگاں
- عید در حیرت سوار چشم قربانی عبث
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- کہ در بحر کماں بالیدہ موج تیر ہے پیدا
- شغل ہوس در نظر لیک حیا بے خبر
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- گریہ ہاے بیدلاں گنج شرر در آستیں
- وا شگفتن ہاے دل در رہن مضموں ہے مجھے
- نہاں در زیر بال آئینہ خانہ
- ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
- اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
- یک جہاں زانو تامل در قفاے خندہ ہے
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناے خندہ ہے
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں
- آستاں میں صفت آئنہ در پنہاں ہے
- نالہ در گرد تمناے اثر پنہاں ہے
- پھرے ہم در بدر ناقابلی سے
- نفس در سینہ ہاے ہم دگر رہتا ہے پیوستہ
- کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- جلوۂ باغ ہے در پردہ ناسور ہنوز
- دم صبح قیامت در گریبان قبا گم ہو
- محبت بے نوا ساز فغاں در پردۂ دل ہا
- ہے طلسم روز و شب کا در کھلا
- مدعا در پردہ یعنی جو کہوں باطل سمجھ
- روتا ہوں بس کہ در ہوس آرمیدگی
- لطف خمار مے کو ہے در دل ہمدگر اثر
- زنجیری صد حلقۂ بیرون در آوے
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- سواد شعر در گرد سفر ہے
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- در ہر نفس بقدر نفس ہے قبا بلند
- ماہ کو در تسبیح کواکب جاے نشین امام کیا
- یاد روزے کہ نفس در گرہ یارب تھا
- دل در رکاب صحرا خانہ خراب صحرا
- بعد از وداع یار بخوں در تپیدہ ہیں
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- پریشانی اسدؔ در پردہ ہے سامان جمعیّت
- در آب آئنہ از جوش عکس گیسوے مشکیں
- شرر ہو قطرۂ خون فسردہ در رگ خارا
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- در پردۂ ہوا پر بسمل ہے آئنہ
- میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- آئنہ ہے قالب خشت در و دیوار دوست
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
- در خیال آباد سودائے سر مژگان دوست
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا
- اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
- خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
- در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
- واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا
- در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار
- گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- کہ ہیں دکان متاع نظر در و دیوار
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- ہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار
- ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
- کہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار
- حریف راز محبت مگر در و دیوار
- بہار در گرو غنچہ شہر جولاں ہے
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- صد رنگ گل کترنا در پردہ قتل کرنا
- نگاہ فتنہ خرام و در دو عالم باز
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
- کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
- دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
- تن بہ بند ہوس در ندادہ رکھتے ہیں
- بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- یک جہاں زانو تأمل در قفاۓ خندہ ہے
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناۓ خندہ ہے
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
- برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے
- جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔ
- طاؤس در رکاب ہے ہر ذرہ آہ کا
- ہر گام آبلے سے ہے دل در تہ قدم
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست
- دانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا
- نمد در آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
- لب خشک در تشنگی مردگاں کا
- گریہ ہائے بے دلاں گنج شرر در آستیں
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- شرر در بند دام رشتۂ رگ ہائے خارا ہے
- شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- پھر کھلا ہے در عدالت ناز
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
- سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
- چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- کاش رضواں ہی در یار کا درباں ہوتا
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- دل خوں گشتہ در دست حنا آلودہ عریاں ہے
- اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر
- رہا بے قدر دل در پردۂ جوش ظہور آخر
- در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- رندان در مے کدہ گستاخ ہیں زاہد
- ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
- بے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل
- ہے کشاد خاطر وابستہ در رہن سخن
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- در معنی سے مرا صفحہ لقا کی داڑھی
- کیوں اسے قفل در گنج محبت لکھیے
- در شہوار ہیں جو گرتے ہیں قطرے پیہم
- در حضور پر اے ابر بار بار برس
- میں جو ہوں در پے حصول شرف
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- تیرے در کے کیے اسباب نثار آمادہ
- کون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا
- سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
- ژالہ آما بچھے ہیں در ثمیں
- نعل در آتش ہر ذرہ ہے تیغ کہسار
- خاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار
- کعبۂ امن و اماں کا در کھلا
- در بزم وفا خجل نشینی ہے مجھے
- کیوں نہ کھولے در خزینۂ راز
- رشتہ در گرد نم افگندہ دوست
- نسیم باغ سے پا در حنا نکلتی ہے
- ہند میں اسدؔ نالاں نالہ در صفاہاں ہے
- سر رشتۂ بیتابیٔ دل در گرہ عجز
- نعل در آتش اسی کا نام ہے