دانہ
17 Misre
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- عقد وصل دخت رز انگور کا ہر دانہ تھا
- صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
- نظر دانہ سر شک برزمیں افتادہ آتا ہے
- اٹھا یاں سے نہ میرا آب و دانہ
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدر دانہ ہم
- بار لائی ہے دانہ ہاے سر شک
- بجائے دانہ خرمن یک بیاباں بیضۂ قمری
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا
- اگر بووے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی
- زنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
- یاں آب و دانہ موسم گل میں حرام ہے
- رواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ
- خال کو دانہ اور زلف کو دام
- ہے بنولا پنبہ دانہ لا کلام
- اور تربز ہند دانہ لا کلام