داغ
141 Misre
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- اختر کو داغ سایہ بال ہما کہوں
- ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- ہے داغ لالہ در خوں طپیدہ
- رہا کس جرم سے میں بیقرار داغ ہم طرحی
- اسدؔ حسرت کش یک داغ مشک انددوہ ہے یا رب
- صفاے اشک میں داغ جگر جلوہ دکھاتے ہیں
- کہ داغ آرزوے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
- دیا داغ جگر کو آہ نے ساماں شگفتن کا
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- عکس داغ مہ ہوا عارض پہ خال
- عکس چشم آہوے رم خوردہ ہے داغ شراب
- داغ مہر ضبط بے جا مستی سعی سپند
- فلس ماہی آئنہ پرواز داغ ماہ ہے
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- جوں شمع غوطہ داغ میں کھا گر وضو نہ ہو
- یک داغ حسرت نفس نا کشیدہ کھینچ
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- ہے ربط مشک و داغ سواد ختن ہنوز
- ہے شمع جادہ داغ نے فروختن ہنوز
- آئینہ داغ حیرت و حیرت شکنج یاس
- نقد ہے داغ دل اور آتش زبانی مفت ہے
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- نشان خال رخ داغ شراب پر تگالی ہے
- تا چند داغ بیٹھیے نقصاں اٹھائیے
- ہوئی ہے سوزش دل بس کہ داغ بے اثری
- سحر از بہر شست و شوے داغ ماہ صابوں ہے
- جوں داغ شعلہ سر خط آغاز ہے مجھے
- بزم داغ طرب دباغ کشاد پر رنگ
- شکوہ درد و درد داغ اے بے وفا معذور رکھ
- جوں پر طاؤس یکسر داغ مشک اندودہ ہے
- تیرگی سے داغ کی مہ سیم مس اندودہ ہے
- اے داغ تمنا سپر انداختنی ہے
- چھپاؤں کیونکے غالبؔ سوزشیں داغ نمایاں کی
- داغ مہ جوش چمن سے لالۂ مہ ہو گیا
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- رہے ہم داغ اپنی کاہلی سے
- واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
- زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
- ہے شمع جادہ داغ ینفروختن ہنوز
- سایۂ گل داغ و جوش نکہت گل موج دود
- ہوا وہ شعلہ داغ اور شوخی خاشاک باقی ہے
- جام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- لالہ داغ شعلہ فرسود چراغ کشتہ ہے
- ہے دل افسردہ داغ شوخی مطلب اسدؔ
- نمک بر داغ مشک آلودۂ وحشت تماشا ہے
- دل از اضطراب آسودہ طاعت گاہ داغ آیا
- پر طاؤس ہے نیرنگ داغ حیرت انشائی
- جنون بیکسی ساغر کش داغ پلنگ آیا
- نالہ کھینچا ہے سراپا داغ جرأت ہوں اسدؔ
- کون ہے داغ کہ شعلے کا عناں گیر آوے
- ہر نظر میں داغ مے خال لب پیمانہ تھا
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- ہوں میں وہ داغ کہ پھولوں میں بسایا ہے مجھے
- سوختگاں کی خاک میں ریزش نقش داغ ہے
- داغ دل سیہ دلاں مردم چشم زاغ ہے
- طاؤس نمط داغ کے گر رنگ نکالوں
- سویدا نسخۂ تہ بندی داغ تمنا ہے
- ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
- داغ ہے مہر دہن جوں چشم قربانی مجھے
- عشاق اشک چشم سے دھوویں ہزار داغ
- دیتا ہے اور جوں گل و شبنم بہار داغ
- رکھتا ہے داغ تازہ کا یاں انتظار داغ
- دیتی ہے گرمی گل و بلبل ہزار داغ
- یوں عاشقوں میں ہے سبب اعتبار داغ
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- دکھلائے ہے مجھے دو جہاں لالہ زار داغ
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- کہ میل سرمہ چشم داغ میں ہے آہ خاموشاں
- یاں ہے کہ داغ لالہ دماغ بہار ہے
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- جوش ویرانی ہے عشق داغ بیروں دادہ سے
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
- جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
- جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
- جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
- میں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغ نا تمامی
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
- جام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- لالہ داغ شعلہ فرسود چراغ کشتہ ہے
- ہے دل افسردہ داغ شوخیٔ مطلب اسدؔ
- نشاط داغ غم عشق کی بہار نہ پوچھ
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
- کہ داغ دل بہ جبین کشادہ رکھتے ہیں
- مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا
- داغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا
- داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
- تا چند داغ بیٹھیے نقصاں اٹھائیے
- ہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
- داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
- جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
- اختر کو داغ سایۂ بال ہما کہوں
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- ہے ربط مشک و داغ سواد ختن ہنوز
- ہے شمع جادہ داغ نیفروختن ہنوز
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- خوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں
- ہیں داغ سے معمور شقائق کی کلاہیں
- سویدا نسخۂ تہ بندی داغ تمنا ہے
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- سویدا داغ مرہم مردمک ہے چشم سوزن میں
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
- داغ پشت دست عجز شعلہ خس بہ دنداں ہے
- مثل دود مجمرہا داغ بال افشاں ہے
- داغ دل گر نظر نہیں آتا
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
- بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
- ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
- جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور
- ہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے
- یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
- بہ کرم داغ نہ ناصیۂ قلزم و نیل
- سوزش داغ ہائے پنہاں کا
- کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
- داغ طرف جگر عاشق شیدا کہیے
- ہے داغ غلامی ترا توقیع امارت
- ستر برس کی عمر میں یہ داغ جانگداز
- ران پر داغ تازہ دے کے وہیں
- اور داغ آپ کی غلامی کا
- سایۂ لالۂ بے داغ سویداے بہار
- سبز ہے جام زمرد کی طرح داغ پلنگ
- لالے کے داغ سے جوں نقطہ و خط سنبل زار
- لالہ ہا داغ برافگندہ و گل ہا بے خار
- شعلہ آغاز ولے حیرت داغ انجام
- خار کانٹا داغ دھبہ نغمہ راگ