داری
14 Misre
- اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
- تماشا کہ اے محو آئینہ داری
- دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- تکلیف پردہ داری زخم جگر گئی
- اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
- وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے
- زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
- کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
- ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہ
- ہے بارے اعتماد وفا داری اس قدر
- کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ