داد
34 Misre
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- گریباں چاکی گل ہا نشان داد خواہی ہے
- گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- ہر نالۂ اسدؔ ہے مضمون داد خواہی
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- داد خواہ تپش و مہر خموشی بر لب
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دم
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
- ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا
- جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
- پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
- وو التماس لذت بے داد ہوں کہ میں
- دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی
- نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
- کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
- یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہئے
- ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
- داد دیوانگی دل کہ ترا مدحت گر
- دیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام
- ہے دولت و دین و دانش و داد کی دال
- تاشاہ شیوع دانش و داد کرے
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد