خیال
109 Misre
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- آئینہ خیال کو طوطی نما کہوں
- اے خیال وصل نادر ہے مے آشامی تری
- نا امیدی ہے خیال خانہ ویراں کیا کرے
- دلے ہنوز خیال وصال خام رہا
- کہ شب خیال میں بوسوں کا ازدحام رہا
- خیال زلف و رخ دوست صبح و شام رہا
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- روز روشن شام آں سوے خیال
- لخت دل سے لاوے ہے شمع خیال آباد گل
- در خیال آباد سوداے سر مژگان دوست
- بس کہ سوداے خیال زلف وحشت ناک ہے
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- زلف خیال نازک و اظہار بے قرار
- دنداں کا خیال چشم تر کر
- اے دل بہ خیال عارض یار
- خیال شوخی خوباں کو راحت آفریں پایا
- خیال شربت عیسیٰ گداز تر جبینی ہے
- عقدہ ساں ہے کیسۂ زر پر خیال تنگ دل
- ہے بہاراں میں خزاں حاصل خیال عندلیب
- ہے جلوۂ خیال سویداے مردمک
- خیال دود تھا سر جوش سوداے غلط فہمی
- خیال سادگی ہاے تصور نقش حیرت ہے
- سادگی یک خیال شوخی صد رنگ نقش
- ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
- خوں بہاے یک جہاں امید ہے تیرا خیال
- تکلف کو خیال آیا ہو گر بیمار پرسی کا
- بہ کسوت عرق شرم قطرہ زن ہے خیال
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- چربی پہلوے خیال رزق دوعالم احتمال
- شکست ساز خیال آں سوے گریوۂ غم
- پھر ہوا مدحت طرازی کا خیال
- رات دل گرم خیال جلوۂ جانانہ تھا
- شام خیال زلف سے صبح دمیدہ ہوں
- دید حیرت کش و خرشید چراغان خیال
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- آئنہ توڑ اے خیال جلوے کو خوں بہا سمجھ
- پختگی ہاے تصور یاں خیال خام ہے
- تو پست فطرت اور خیال بسا بلند
- وقت خیال جلوۂ حسن بتاں اسدؔ
- جوہر فکر پر افشانی نیرنگ خیال
- سودائی خیال ہے طوفان رنگ و بو
- حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
- یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
- کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
- در خیال آباد سودائے سر مژگان دوست
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
- خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشے
- موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیال
- عقل کے نقصاں سے اٹھتا ہے خیال انتفاع
- کب تک خیال طرۂ لیلا کرے کوئی
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- خیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہوائے کامرانی
- نگاہ عکس فروش و خیال آئنہ ساز
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- تا کجا افسوس گرمی ہاۓ صحبت اے خیال
- مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
- زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
- ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہے
- ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- بزم خیال مے کدۂ بے خروش ہے
- آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
- لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
- دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
- آئینۂ خیال کو طوطی نما کہوں
- پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
- دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
- خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش
- جیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
- خیال دود تھا سر جوش سودائے غلط فہمی
- ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
- اب وہ رعنائی خیال کہاں
- یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیال
- پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- نالۂ دل نغمہ ریزاں ہے بہ مضراب خیال
- ہوں زخود رفتۂ بیدائے خیال
- کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
- شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
- اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے
- عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے
- مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج
- غرض اب تک خیال گرمیٔ رفتار قاتل ہے
- مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیال
- جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل
- استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہواے کامرانی
- وحشت دل سے پریشاں ہیں چراغان خیال
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
- وہ نظرگاہ اہل وہم و خیال
- گلشن و میکدہ سیلابی یک موج خیال
- بہ نظر گاہ گلستان خیال ساقی
- سرو بیدل سے عیاں عکس خیال قد یار
- آئینۂ خیال کو دیکھا کرے کوئی