خوں
105 Misre
- ہے داغ لالہ در خوں طپیدہ
- صورت دیبا تپش سے میری غرق خوں ہے آج
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- سبزۂ صحراے الفت نشتر خوں ریز ہے
- نگاہ حیرت مشاطہ خوں فشاں تجھ سے
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- مینا شکستگاں کو کہسار خوں بہا ہے
- ہجوم برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
- دماغ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
- اے ادا فہماں صدا ہے تنگی فرصت سے خوں
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہاے خوں
- خوں بہاے یک جہاں امید ہے تیرا خیال
- خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- برگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں
- درون جوہر آئینہ جوں برگ حنا خوں ہے
- جوے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- ہے پر پرواز رنگ رفتۂ خوں گفتگو
- خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں
- ٹوٹے گر آئنہ اسدؔ سبحہ کو خوں بہا سمجھ
- زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- خدایا خوں ہو رنگ امتیاز اور نالہ موزوں ہو
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- خوں کر دل اندیشہ و مضمون ستم باندھ
- آئنہ توڑ اے خیال جلوے کو خوں بہا سمجھ
- کہکشاں موج شفق میں تیغ خوں آشام ہے
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- شفق ساں موجۂ خوں ہے رگ خواب
- دیدہ گو خوں ہو تماشائے چمن مطلب تھا
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- دیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست
- ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
- لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
- جب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہائے خوں
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- جگر کو مرے عشق خوں نابہ مشرب
- جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
- کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا
- خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں
- ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
- دل خوں شدۂ کشمکش حسرت دیدار
- کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
- جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
- خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
- کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو
- نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- جوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
- رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
- نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
- نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ ولیکن ناچار
- بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
- دست گاہ دیدۂ خوں بار مجنوں دیکھنا
- حیرت طپیدن ہا خوں بہائے دیدن ہا
- خلش غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
- خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
- کشتۂ تغافل کو خصم خوں بہا پایا
- جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
- رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- سبزۂ صحرائے الفت نشتر خوں ریز ہے
- اے آرزو شہید وفا خوں بہا نہ مانگ
- شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
- ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
- دل خوں گشتہ در دست حنا آلودہ عریاں ہے
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- برگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں
- شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا
- ہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور
- خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل
- اے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو
- تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- خوں ہو آئینہ کہ ہو جامۂ طفلاں رنگیں
- کہ ہوا خوں نگہ شوق میں نقش تمکیں