خون
51 Misre
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشکباری کا
- ہے بے خمار نشۂ خون جگر اسدؔ
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- حناے پاے اجل خون کشتگاں تجھ سے
- حنا سے دست و خون کشتگاں سے تیغ رنگیں ہے
- قطرہ ہاے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- چشم بے خون دل و دل تہی از جوش نگاہ
- مال سنّی کو مباح اور خون صوفی کو حلال
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- یک رگ خواب و سراسر جوش خون آرزو
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
- قطرۂ خون جگر چشمک طوفاں زدہ ہے
- خون ہدہد سے لکھ نقش گرفتاروں کا
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے
- ہو سکے ہے پردۂ جوشیدن خون جگر
- ریزش خون وفا ہے جرعہ نوشی ہاے یار
- شرر ہو قطرۂ خون فسردہ در رگ خارا
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- قطرہ ہائے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا
- روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
- شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا
- پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل
- سواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
- تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے
- رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
- برق خرمن راحت خون گرم دہقاں ہے
- ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
- خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
- ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
- بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
- شور اوہام سے مت ہو شب خون انصاف
- کہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں
- موج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی
- خون صد برق سے باندھے بکف دست نگار
- پرورش پائی ہے جوں غنچہ بہ خون اظہار
- تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار
- کہ رہے خون خزاں سے بہ حنا پاے بہار
- یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر
- قارورہ مرا خون کبوتر ہے آج
- ساغر کش خون آرزو یعنی دل