خوف
7 Misre
غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالبؔ
مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے
وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے
تپش دل نہیں بے رابطۂ خوف عظیم
خ
All Letters