خوشی
8 Misre
خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے
جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
خوشی جینے کی کیا مرنے کا غم کیا
خ
All Letters