خوش
36 Misre
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراے انتظار
- لوں دام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- لوں وام بخت خفتہ سےیک خواب خوش اسد
- بیاباں خوش ہوں تیری عاملی سے
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- سر خوش خواب ہے وہ نرگس مخمور ہنوز
- بس کہ شرمندۂ بوے خوش گل رویاں ہے
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- چمن میں خوش نوایان چمن کی آزمائش ہے
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سے
- ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
- گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراۓ انتظار
- لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش اسد
- خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر
- خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
- شاعر نغز گوے خوش گفتار
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- روان روشن و خوے خوش و دل آگاہ
- خوش رہو ہنسنے کو خندیدن کہو