خور
22 Misre
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- چشم غفلت نظر شبنم خور نادیدہ
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- عجب کہ پر تو خور شمع شبنمستاں ہے
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- نہ بخشی فرصت یک شبنمستاں جلوۂ خور نے
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- کہ تھا آئینہ خور پر تصور زنگ بستن کا
- عیاں ہے پاے حنائی برنگ پر تو خور
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- ہوتے ہیں محو جلوۂ خور سے ستارگاں
- جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
- پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
- سامان خور و خواب کہاں سے لاؤں