خودی
27 Misre
- نہیں ہے باوجود ضعف سیر بے خودی آساں
- ہر گرد باد حلقۂ فتراک بے خودی
- جز عجز کیا کروں بہ تمناے بے خودی
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- برنگ گل اگر شیرازہ بند بے خودی رہیے
- واے اے بے خودی و تہمت آرامیدن
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- نہ پوچھ بے خودی عیش مقدم سیلاب
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- جسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو
- پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے
- اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
- سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
- اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر
- بے خودی بستر تمہید فراغت ہو ۔۔۔جو
- جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی
- نفس موج محیط بے خودی ہے
- خندۂ بے خودی کبک بدندان شرار
- تہمت بے خودی کفر نہ کھینچے یارب