خود
76 Misre
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- ہر طرح ہوں میں از خود رمیدہ
- کجا جوہر چہ عکس خط بتاں وقت خود آرائی
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریز بہائے خود بینی
- ہے وہی بدمستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ
- بدگماں کرتی ہے عاشق کو خود آرائی تری
- ناز خود بینی کے باعث مجرم صد بے گناہ
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- چیونٹی کے پر سر و برگ خود آرائی نہیں
- بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
- بس کہ ہیں بے خود و دا رفتہ و حیراں گل و صبح
- دل بیمار از خود رفتہ تصویر نہالی ہے
- بجائے خود وگر نہ سرد بھی میناے خالی ہے
- فرصت آئینہ صد رنگ خود آرائی ہے
- نیاز پردۂ اظہار خود پرستی ہے
- اے اسدؔ ہم خود اسیر رنگ و بوے باغ ہیں
- شرح بر خود غلطی ہاے تحمل تا چند
- حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
- خوشا خود بینی و تدبیر غفلت نقد اندیشہ
- بتاں نقش خود آرائی حیا تحریر بہتر ہے
- خود بخود پہنچے ہے گل گوشہ دستار کے پاس
- خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
- خود آرائی سے آئینہ طلسم موم جادو تھا
- خود فروشی ہاے ہستی بس کہ جاے خندہ ہے
- کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
- خود آشیان طائر رنگ پریدہ ہوں
- نگاہ چشم حاسد دام لے اے ذوق خود بینی
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- دکان ناوک تاثیر ہے از خود تہی ماندن
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- بہر از خود رفتگاں رنج خود آرائی عبث
- کہ تھا آئینۂ خود بے نقاب زنگ بستن ہا
- نظر پرستی و بے کاری خود آرائی
- ہنوز محمل حسرت بدوش خود رائی
- سلیمانی ہے ننگ بے دماغان خود آرائی
- کجا معزولی آئینہ کو ترک خود آرائی
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- اے طفل خود معاملہ قد سے عصا بلند
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- چشم بند خلق جز تمثال خود بینی نہیں
- فرصت آئینۂ صد رنگ خود آرائی ہے
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینی
- خود پرستی سے رہے باہم دگر نا آشنا
- ز خود رفتگی ہائے حیرت سلامت
- نگاۂ چشم حاسد وام لے اے ذوق خود بینی
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- خود فروشی ہاۓ ہستی بسکہ جاۓ خندہ ہے
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- کجا معزولیٔ آئینہ کو ترک خود آرائی
- پنجۂ مژگاں بہ خود بالیدنی رکھتا ہے آج
- کس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آرا
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائی
- ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
- نامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے
- ہوا ہے مانع عاشق نوازی ناز خود بینی
- از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہے
- کیا پوچھے ہے بر خود غلطیہائے عزیزاں
- ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار
- حرز بازوے شگرفان خود آرا کہیے
- وہ نازنیں بتان خود آرا کہ ہاے ہاے
- غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے
- ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
- خود آسماں ہے مہا راؤ راجہ پر صدقے
- خود ہے تدارک اس کا گورمنٹ کو ضرور
- خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
- وہ خود کہے کہ بتا تیری آرزو کیا ہے
- میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسند