خوباں
32 Misre
- حسن خوباں بسکہ بے قدر تماشا ہے اسدؔ
- ممکن نہیں کہ ہو دل خوباں میں کارگر
- بہ یک مژگان خوباں صد چمن خوابیدنی جانے
- گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
- اسدؔ خوباں بھی دور چرخ سے رنجیدہ خاطر ہیں
- چمن نا محرم آگاہی دیدار خوباں ہے
- کرے ہے حسن خوباں پردے میں مشاطگی اپنی
- کرے ہے لطف انداز برہنہ گوئی خوباں
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- حیرت آغوش خوباں ساغر بلور ہے
- نیم رنگی ہاے شمع محفل خوباں سے ہے
- بہ حسرت گاہ ناز کشتۂ جاں بخشی خوباں
- خیال شوخی خوباں کو راحت آفریں پایا
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- صبا خرامی خوباں بہار ساماں ہے
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- ناخن انگشت خوباں نعل واژوں ہے مجھے
- قامت خوباں ہو محراب نیازستان عجز
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- دیباچۂ وحشت ہے اسدؔ شکوۂ خوباں
- ہے فروغ رخ افروختہ خوباں سے
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔ
- شعلۂ آواز خوباں پر بہ ہنگام سماع
- کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- گوہر کو عقد گردن خوباں میں دیکھنا
- عشرت صحبت خوباں ہی غنیمت سمجھو
- اسدؔ زندانی تاثیر الفت ہاۓ خوباں ہوں
- چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
- چشم خوباں مے فروش نشہ زار ناز ہے
- ہے شاخ گل میں پنجۂ خوباں بجائے گل