خواہ
13 Misre
- ہے وہی بدمستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ
- خیر خواہ دید ہوں از بہر دفع چشم زخم
- داد خواہ تپش و مہر خموشی بر لب
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- عدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
- پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
- کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہو
- رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
- خیر خواہ جناب دولت و دیں
- می برد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست