خوار
16 Misre
- جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
- خیرات خوار محض ہوں نوکر نہیں ہوں میں
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- غم خوار کو ہے قسم زنہار
- بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست
- مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
- غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
- دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
- تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
- ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ