خواب
94 Misre
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- پئے سنجیدن یاراں ہوں حامل خواب سنگیں کا
- تپیدن دل کو سوز عشق میں خواب فرامش ہے
- نشاط دیدہ بینا ہے کو خواب و چہ بیداری
- مہ و خرشید باہم ساز یک خواب پریشاں ہیں
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- آشنا تعبیر خواب سبزۂ بے گانہ ہم
- مژگان باز ماندہ رگ خواب ہو گئی
- اے ہمہ خواب گراں حوصلہ بدنام ہے
- بیستوں خواب گران خسرو پرویز ہے
- بوئے گل فتنۂ بیدار و چمن جامۂ خواب
- قیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
- وگر نہ خواب کی مضمر ہیں افسانے میں تعبیریں
- خواب گران خسرو پرویز یک طرف
- بسان سبزہ رگ خواب سے زباں ایجاد
- طاقت حریف سختی خواب گراں نہیں
- نگہ حیرت سواد خواب بے تعبیر بہتر ہے
- زبان شانہ سے تعبیر صد خواب پریشاں کی
- تھا خواب میں کیا جلوہ پرستار زلیخا
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- بہ شیرینی خواب آلودہ مژگاں نشتر زنبور
- لوں دام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- لوں وام بخت خفتہ سےیک خواب خوش اسد
- یک رگ خواب و سراسر جوش خون آرزو
- خواب غفلت بہ کمیں گاہ نظر پنہاں ہے
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- نمک ہے شمع میں جوں موم جادو خواب بستن کا
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- مغز سر خواب پریشاں ہے سخن کی فکر میں
- مژہ فال دو جہاں خواب پریشاں زدہ ہے
- سر خوش خواب ہے وہ نرگس مخمور ہنوز
- انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- ہزار آشفتگی مجموعۂ یک خواب ہوجاوے
- بچشم درشدہ مژگاں ہے جوہر رگ خواب
- شب کہ باندھا خواب میں آنے کا قاتل نے جناح
- جو رخت خواب ہے پرویں تو ہے پرن تکیہ
- شوخی وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- انتظار عید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- درازی رگ خواب بتاں خط چیں ہے
- جوش فریاد سے لوں گا دیت خواب اسدؔ
- جادۂ سیر دوجہاں یک مژہ خواب پا سمجھ
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- شفق ساں موجۂ خوں ہے رگ خواب
- خواب صیاد سے پرواز گرانی مانگے
- دیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے
- یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
- بوئے گل فتنۂ بیدار و چمن جامۂ خواب
- کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
- ہماری دید کو خواب زلیخا عار بستر ہے
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- خیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی
- جسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو
- اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- شوخیٔ وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- آشنا تعبیر خواب سبزۂ بیگانہ ہم
- قیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
- لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش اسد
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- نشاط دیدۂ بینا ہے کو خواب و چہ بیداری
- موج شراب یک مژۂ خواب ناک ہے
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
- خواب صیاد سے پرواز گرانی مانگے
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- ولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دے
- باوجود دل جمعی خواب گل پریشاں ہے
- ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
- شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کا
- بیستوں خواب گران خسرو پرویز ہے
- دو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
- پریشاں خواب آغوش وداع یوسف ستاں ہے
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- طاقت حریف سختیٔ خواب گراں نہیں
- یا رب حساب سختیٔ خواب گراں نہ پوچھ
- بے ستوں آئنۂ خواب گران شیریں
- کعبہ و بت کدہ یک محمل خواب رنگیں
- سنبل و دام کمیں خانۂ خواب صیاد
- مژۂ خواب سے کرتا ہوں بآسایش درد
- سامان خور و خواب کہاں سے لاؤں
- آج بیداری میں ہے خواب زلیخا مجھ کو
- مفت وا گستردنی ہے فرش خواب آئینے پر
- ہیولیٰ صورت کابوس پھر خواب گراں کیوں ہو
- خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار
- کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز