خندۂ
14 Misre
- خندۂ گل بلب زخم جگر پنہاں ہے
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- خراب نالۂ بلبل شہید خندۂ گل
- فرد آئینہ میں بخشیں شکن خندۂ گل
- آمد خط ہے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- بخیۂ زخم جگر خندۂ زیر لب تھا
- نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
- ہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں
- چٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے
- صبح وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
- کھینچوں ہوں آئنے پر خندۂ گل سے مسطر
- خندۂ بے خودی کبک بدندان شرار