خمیازہ
17 Misre
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- خمیازہ یک درازی عمر خمار تھا
- خمیازہ ساغر مے رنج خمار ہے
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- تا کوچہ دادن موج خمیازہ آشنا ہے
- خمیازہ طرب ساغر زخم جگر آوے
- مئے کیفیت خمیازہ ہاے صبح آغوشاں
- خمیازہ یک درازی عمر خمار تھا
- نہ کھینچے طاقت خمیازہ تہمت ناتوانی کی
- یار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- تامحیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- عرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار
- جو ہے انگڑائی وہی خمیازہ ہے