خمار
28 Misre
- سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
- میں ہمہ حیرت جنوں بے تاب دوران خمار
- ہے بے خمار نشۂ خون جگر اسدؔ
- کس قدر ہے نشہ فرساے خمار بنگ دل
- سیر ملک حسن کر میخانہ ہا نذر خمار
- خمیازہ یک درازی عمر خمار تھا
- خمیازہ ساغر مے رنج خمار ہے
- بہ قدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- خمار ضبط سے بھی نشۂ اظہار پیدا ہے
- دریاے مے ہے ساقی لیکن خمار باقی
- نا امیدی نے بہ تقریب مضامین خمار
- لطف خمار مے کو ہے در دل ہمدگر اثر
- خمیازۂ خمار سے پیمانہ کھینچیے
- موج سراب صحرا عرض خمار صحرا
- نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
- خمیازہ یک درازی عمر خمار تھا
- ناامیدی نے بہ تقریب مضامین خمار
- سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- خمار منت ساقی اگر یہی ہے اسدؔ
- میکدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- موجۂ سبزۂ نوخیز ہے لبریز خمار
- کھینچے خمیازے میں تیرے لب ساغر کا خمار
- موج مے لیک زسر تا قدم آغوش خمار