خم
48 Misre
- ہوں سراپا یک خم تسلیم جو مولا کرے
- ٹوٹا ہے افسوس موے خم زلف
- سروکار تواضع تا خم گیسو رسا نیدن
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- دیوار بار منت مزدور سے ہے خم
- غالبؔ بدوش دل خم مستاں اٹھائیے
- وگر نہ ہے خم تسلیم سے کماں پیدا
- اے دماغ نارسا خم خانۂ منزل نہ پوچھ
- دعاے دل بہ محراب خم شمشیر بہتر ہے
- خم رنگ سیہ پیمانۂ ہر چشم آہو تھا
- خم گیسو ہو شمشیر سیہ تاب اور شب کاٹے
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- کہ شاخ گل کا خم انداز ہے بالیں شکستن کا
- کہ سجدہ قبضۂ تیغ خم محراب ہوجاوے
- یارب آئینہ بہ طاق خم شمشیر آوے
- طاقت اگر اعجاز کرے تہمت خم باندھ
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- کہ بن گیا ہے خم جعد پر شکن تکیہ
- بے تکلف بہ سجود خم شمشیر آیا
- یک غنچہ سے صد خم مے گلرنگ نکالوں
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گردیدنی
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- آغوش خم حلقۂ زنار میں آوے
- خم پشت خوشنما تھا بہ گزارش جوانی
- بحلقۂ خم گیسو ہے راستی آموز
- دیوار بار منت مزدر سے ہے خم
- غالبؔ بہ دوش دل خم مستاں اٹھائیے
- تمہارے آئیو اے طرہ ہاۓ خم بہ خم آگے
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- تو اور آرائش خم کاکل
- مے پرستاں خم مے منہ سے لگائے ہی بنے
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- خم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
- قامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے
- یعنی دعا بجز خم زلف دوتا نہ مانگ
- پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
- اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گر دیدنی
- یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
- ابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا؟
- میکدے میں اسے خشت خم صہبا کہیے
- خم پشت خوشنما تھا بہ گزارش جوانی
- ابدا پشت فلک خم شدۂ ناز زمیں
- فلک العرش ہجوم خم دوش مزدور
- دل عاشق شکن آموز خم طرۂ یار
- خم ہے مٹکا اور ٹھلیا ہے سبو