خلوت
27 Misre
- بہ شغل انتظار مہو شاں در خلوت شب ہا
- شمع خلوت خانہ کیجیے ہر چہ باد آباد گل
- خلوت بال و پر قمری میں وا کر راہ شوق
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع خلوت خانہ ہم
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- سراغ خلوت شب ہاے تار رکھتے ہیں
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- خلوت دل میں نہ کر دخل بجز سجدہ شوق
- ہوں خلوت فسردگی انتظار میں
- ہوا ہر خلوت و جلوت سے حاصل ذوق تنہائی
- زبان شمع خلوت خانہ دیتی ہے جواب اس کا
- خلوت ناز پہ پیرایۂ محفل باندھا
- جو بشام غم چراغ خلوت دل تھا اسدؔ
- آئینہ بند خلوت و محفل ہے آئنہ
- خلوت ناز پہ پیرایۂ محفل باندھا
- فشار تنگی خلوت سے بنتی ہے شبنم
- کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
- دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
- اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
- ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- ہنوز آئینہ خلوت گاہ ناز ربط مژگاں ہے
- موج گل ڈھونڈھ بہ خلوت کدۂ غنچۂ باغ
- خلوت آبلہ میں گم کرے گر تو رفتار
- جیب خلوت کدۂ غنچہ میں جولان بہار