خلق
24 Misre
- سر نوشت خلق ہے طغراے عجز اختیار
- طلسم منت یک خلق سے رہائی دی
- مشکل آساں کن یک خلق تغافل تا چند
- خلق ہے صفحۂ عبرت سے سبق ناخواندہ
- پاے نگاہ خلق میں خار خلیدہ ہوں
- رند تمام ناز رہ خلق کو پارسا سمجھ
- اے دل و جان خلق تو ہم کو آشنا سمجھ
- ملک کے وارث کو دیکھا خلق نے
- اے بہ سراب حسن خلق تشنۂ سعی امتحاں
- کہ عید خلق پہ حیراں ہے چشم قربانی
- اسدؔ نے کثرت دل ہاے خلق سے جانا
- چشم بند خلق جز تمثال خود بینی نہیں
- میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
- بیگانگی خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ
- وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
- چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
- خلق کا ہے اسی چلن پہ مدار
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- کہے گی خلق اسے داور سپہر شکوہ
- ہے خلق حسد قماش لڑنے کے لیے
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
- خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے