خط
100 Misre
- خط صفحۂ عذار پہ گرد کتاب ہے
- کجا جوہر چہ عکس خط بتاں وقت خود آرائی
- کہ ہے تہ بندی خط سبزۂ خط در تہ لب ہا
- ہے رگ یاقوت عکس خط جام آفتاب
- ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
- خط پیمانۂ مے ہے نفس دزدیدہ
- یاں خط پرکار ہستی حلقۂ فتراک ہے
- موے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- جز خط عجز نقش تمنا نہ کھینچیے
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
- جبیں پر میری مد خامۂ قدرت خط چیں ہے
- گرفتاری میں فرمان خط تقدیر ہے پیدا
- جو خط ہے کف پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
- جوں داغ شعلہ سر خط آغاز ہے مجھے
- ہوں جوں خط شکستہ بہر جا شکستہ دل
- رگ گردن خط پیمانۂ بے مل تا چند
- ہوا جب حسن کم خط بر عذار سادہ آتا ہے
- نہ لبوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- ہے سواد خط پریشاں ہوئی اہل عزا
- خط سیاہ سے ہے گرد کارواں پیدا
- غبار خط سے تعمیر بناے خانہ بربادی
- موج مے مثل خط جام ہے برجاماندہ
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
- حلقۂ گیسو کھلا دور خط رخسار پر
- ہے خط عجز ماوتو اول درس آرزو
- ہے عرض جوہر خط و خال ہزار عکس
- رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
- عبث ہے خط ساغر جلوہ طوق گردن قمری
- سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
- روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
- جانتا ہوں ہے خط لوح ازل
- کہ خط سبز تا پشت لب سوفار ہو پیدا
- جاتے ہیں رقیب کو خط اس کے
- سر خط بند ہوا نامہ گنہ گاروں کا
- خط پیالہ سراسر نگاہ گلچیں ہے
- درازی رگ خواب بتاں خط چیں ہے
- کہ خط غبار زمیں خیز زلف مشکیں ہے
- عکس خط تا سخن ناصح دانا سرسبز
- عرق از خط چکیدہ روغن مور
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- سویدا میں نفس مانند خط نقطے میں پنہاں ہے
- غبار خط رخ گرد سحر ہے
- آمد خط ہے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- گر ملے حضرت بیدل کا خط لوح مزار
- جوں اعتماد نامہ و خط کا ہو مہر سے
- خوانا نہیں ہے خط رقم اضطرار کا
- تار نگاہ سوزن مینا رشتۂ خط جام کیا
- جادۂ منزل ہے خط ساغر مل کے تلے
- گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
- ضمان جادہ رویاندن ہے خط جام مے نوشاں
- میکش مضموں کو حسن ربط خط کیا چاہیے
- ہر چند خط سبز و زمرد رقمی ہے
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- دود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست
- ظاہراً کاغذ ترے خط كا غلط بردار ہے
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
- بہ فراق رفتہ یاراں خط و حرف مو پریشاں
- یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
- خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
- سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- گویا کہ تختۂ مشق ہیں خط غبار کے
- جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن
- خط نوخیز نیل چشم زخم صافیٔ عارض
- موئے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
- خط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
- قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
- آمد خط سے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- گر ملے ؔحضرت بیدل کا خط لوح مزار
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- شور سودائے خط و خال کہاں
- سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
- غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا
- خط رخسار ساقی تا خط ساغر چراغاں ہے
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- آئینہ عرض کر خط و خال بیاں نہ پوچھ
- کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا
- بہ فراق رفتہ یاراں خط و حرف مو پریشاں
- کجی یک خط مسطر چہ توہم چہ یقیں
- اے عبارت تجھے کس خط سے ہے درس نیرنگ
- لالے کے داغ سے جوں نقطہ و خط سنبل زار
- پشت لب تہمت خط کھینچے ہے بے جا یعنی
- سبز مثل خط نوخیز ہو خط پرکار
- سبزہ نہ چمن ویک خط پشت لب بام
- ذوالفقار شہ مرداں خط قدرت آثار
- کمی ربط نیاز و خط ناز بسیار
- فیض معنی سے خط ساغر راقم سرشار
- حسن کا خط پر نہاں خندیدنی انداز ہے
- وہ خط سبز ہے کہ بہ رخسار سادہ ہو
- تھا تو خط پر نہ تھا جواب طلب
- خط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئی