خستہ
11 Misre
- اسدؔ خستہ گرفتار دو عالم اوہام
- ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرم نارسائی سے
- اٹھائے کیوں کے یہ رنجور خستہ تن تکیہ
- ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
- سر خستہ دشوار وحشت سلامت
- رہے غالبؔ خستہ مغلوب گردوں
- قبلۂ کون و مکاں خستہ نوازی میں یہ دیر