خس
25 Misre
- بجاے غنچہ و گل ہے ہجوم خار و خس یاں تک
- ہے رگ سنگ فسان تیغ شعاہ خار و خس
- نہ لبوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- مژگان چشم دام ہوئے خار و خس تمام
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- یاں ہے کہ صحبت خس آتش برار ہے
- بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
- اے عندلیب یک کف خس بہر آشیاں
- آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
- نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
- نبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا
- داغ پشت دست عجز شعلہ خس بہ دنداں ہے
- شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
- غریق بحر جویائے خس و خاشاک ساحل ہے
- خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
- ہے چراغاں خس و خاشاک گلستاں مجھ سے
- فروغ شعلۂ خس یک نفس ہے
- گرمیٔ نبض خار و خس آشیاں نہ پوچھ
- گرمی شعلۂ رفتار سے جلتے خس و خار
- خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں
- جو ہو جاوے نثار برق مشت خار و خس بہتر