خرشید
19 Misre
- کہ ظاہر پنجۂ خرشید دست زیر پہلو ہے
- مہ و خرشید باہم ساز یک خواب پریشاں ہیں
- ورنہ تھا خرشید یک دست سوال
- ہے غلاف دفچۂ خرشید ہر یک گرد باد
- پنجۂ خرشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- گوہر شب تاب اشک دیدۂ خرشید ہے
- جلوۂ خرشید سے ہے گرم پہلوے ہلال
- لیکن عبث کہ شبنم خرشید دیدہ ہوں
- گر جلوۂ خرشید خریدار وفا ہو
- رنگ رخسار گل خرشید مہتابی کرے
- پھر مہ و خرشید کا دفتر کھلا
- دید حیرت کش و خرشید چراغان خیال
- ہر بت خرشید طلعت آفتاب بام ہے
- ہو جہاں وہ ساقی خرشید رو مجلس فروز
- جوں پنجۂ خرشید ہو اے دست دعا گرم
- ذرے سے باندھے ہے خرشید فلک پر آئیں
- ذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز
- ابر میخانہ کریں ساغر خرشید شکار
- تابش خرشید پر تنویر آدھی رہ گئی