خرابی
8 Misre
کرے گر فکر تعمیر خرابی ہائے دل گردوں
وہ گرفتار خرابی ہوں کہ فوارہ نمط
گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر
خ
All Letters