خدا
74 Misre
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- خدا کے واسطے اے شاہ بیکساں فریاد
- خدا یعنی پدر سے مہرباں تر
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- بن گیا سبحہ وہ زنار خدا خیر کرے
- تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- حضرت چلے حرم کو اب آپ کا خدا ہے
- پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے
- اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا براے خدا
- گرچہ خدا کی یاد ہے کلفت ماسوا سمجھ
- کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
- پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ
- غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند ناز
- پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
- ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
- صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
- ڈر نالہ ہائے زار سے میرے خدا کو مان
- اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
- خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- وہ حلقہ ہاۓ زلف کمیں میں ہیں یا خدا
- میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
- کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا
- ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنی
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- یا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دے
- صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہ
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- خدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس
- مظہر فیض خدا جان و دل ختم رسل
- خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
- کس سے ہوسکتی ہے مداحی ممدوح خدا
- عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو
- خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
- خدا کرے کہ کرے اس طرح ابھار گرہ
- وہ خشمگیں ہو تو گردوں کہے خدا کی پناہ
- خدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزند
- خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
- پیری و نیستی خدا کی پناہ
- کہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہ
- خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی
- کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو
- خدا کا بندہ خداوندگار بندوں کا
- کہ طالبان خدا رہنما کہیں اس کو
- خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے
- خدا کے بعد نبیؐ اور نبیؐ کے بعد امام
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- میں قائل خدا و نبیؐ و امام ہوں
- بندہ خدا کا اور علی کا غلام ہوں
- یہ بندۂ کمینہ ہم سایۂ خدا ہے
- قادر اور اللہ اور یزداں خدا