خاک
101 Misre
- طلسم خاک کمیں گاہ یک جہاں سودا
- دل و جگر تف فرقت سے جل کے خاک ہوئے
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- خاک ہے عرض بہار صد نگارستاں اسدؔ
- جادۂ گلشن بہ رنگ ریشہ زیر خاک ہے
- بس کہ زیر خاک با آب طراوت راہ ہے
- مے خانہ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- اے چرخ خاک بر سر تعمیر کائنات
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- خاک عاشق بس کہ ہے فرسودۂ پرواز شوق
- دشت الفت میں ہے خاک کشتگاں محبوس و بس
- ہوسکے کیا خاک دست و بازوے فرہاد سے
- جو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پا
- طاؤس خاک حسن نظر باز ہے مجھے
- آغوش گل ہے آئنۂ ذرہ ذرہ خاک
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- جز خاک بسر کردن بے فائدہ حاصل
- ریشۂ شہرت دوانیدن ہے رفتن زیر خاک
- خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
- ہوں خاک نشیں از پئے ادراک قدم بوس
- اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
- خراج دیہہ ویراں یک کف خاک
- عدم میں بہر فرق سرد مشت خاک باقی ہے
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- اسدؔ باوصف مشق بے تکلف خاک گردیدن
- گر خاک ہو گلدستۂ صد نقش قدم باندھ
- ہر ذرہ خاک عرض تمناے رفتگاں
- بر خاک اوفتادگی کشتگان عشق
- مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
- گرد باد آئنۂ محشر خاک مجنوں
- ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
- سوختگاں کی خاک میں ریزش نقش داغ ہے
- گر ہو بلد شوق مری خاک کو وحشت
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- ہر ذرہ یک دل پاک آئینہ خانہ بے خاک
- مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
- خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
- خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
- گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
- طلسم خاک کمیں گاہ یک جہاں سودا
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز
- جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
- کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
- شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
- خاک میں ناموس پیمان محبت مل گئی
- اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں
- اترائے کیوں نہ خاک سر رہ گزار کی
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- قیامت اک ہوائے تند ہے خاک شہیداں پر
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- سواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
- وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- اثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں
- شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں
- سواے حسرت تعمیر گھر میں خاک نہیں
- کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں
- صحرا ہماری آنکھ میں یک مشت خاک ہے
- رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- خاک فرصت برسر ذوق فنا اے انتظار
- دیکھو اے ساکنان خطۂ خاک
- خاک بازی امید کارخانۂ طفلی
- ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے
- جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار
- شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
- مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک
- غالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے
- صورت نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں
- خاک پر توڑے ہے آئینۂ ناز پرویں
- ہر کف خاک ہے واں گروۂ تصویر زمیں
- وہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- آتش و آب و باد و خاک نے لی
- کف ہر خاک بگر دوں شدہ قمری پرواز
- ہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور
- خاک صحراے نجف جوہر سیر عرفا
- خاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک
- آم کے آگے پیش جاوے خاک