خانۂ
45 Misre
- وگر نہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- شیون دل یک سرود خانۂ ہمسایہ ہے
- رکھی بے جا بناے خانۂ زنجیر شیون پر
- پسینہ تو سن ہمت کا سیل خانۂ زیں ہے
- لگاوے خانۂ آئینہ میں روے نگار آتش
- اے دماغ نارسا خم خانۂ منزل نہ پوچھ
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینہ دل کا
- خانۂ عاشق مگر ساز صداے آب تھا
- سیل صیاد کمیں خانۂ تعمیر آوے
- رکاب روزن دیوار خانۂ زیں ہے
- موکشاں خانۂ زنجیر میں لایا ہے مجھے
- خانۂ آگہی خراب دل نہ سمجھ بلا سمجھ
- صبح ناپیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- لخت لخت دل نگین خانۂ زنجیر ہے
- خیمۂ لیلےٰ سیاہ و خانۂ مجنوں خراب
- متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم
- وگرنہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم
- نہ پوچھ وسعت مے خانۂ جنوں غالبؔ
- تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب
- ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا
- تامحیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا
- خانۂ مجنون صحراگرد بے دروازہ تھا
- مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- پسینہ توسن ہمت تو سیل خانۂ زیں ہے
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- لگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتش
- گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
- ودیعت خانۂ بیداد کاوش ہاۓ مژگاں ہوں
- ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق
- چراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- تھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے
- رنگ عاشق کی طرح رونق بت خانۂ چیں
- خانۂ تنگ ہجوم دو جہاں کیفیت
- سنبل و دام کمیں خانۂ خواب صیاد
- مردمک سے ہو عزا خانۂ اقبال نگاہ
- دشمن آل نبی کو بطرب خانۂ دہر
- یہ چور پڑا ہے خانۂ خاتم میں