خانہ
69 Misre
- نا امیدی ہے خیال خانہ ویراں کیا کرے
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- خموشی خانہ زاد چشم بے پروا نگاہاں ہے
- شمع خلوت خانہ کیجیے ہر چہ باد آباد گل
- نوحہ گویا خانہ زاد نالۂ رنجور ہے
- رنگ شب تہ بندی دود چراغ خانہ تھا
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع خلوت خانہ ہم
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ہیں ورق گردانی نیرنگ یک بت خانہ ہم
- جانتے ہیں سینۂ پرخوں کو زنداں خانہ ہم
- شعلہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- مے خانہ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- گر نہیں پاتا درون خانہ ہر بے گانہ جا
- آئنہ خانہ ہے صحن چمنستاں یکسر
- خانہ ہے سیل سے خو کردہ دیدار ہنوز
- غبار خط سے تعمیر بناے خانہ بربادی
- مگر وہ خانہ بر انداز گفتگو جانے
- نہاں در زیر بال آئینہ خانہ
- نہ پھریے مہرہ ساں خانہ بخانہ
- آئینہ خانہ وادی جوہر غبار تھا
- آرزوے خانہ آبادی نے ویراں تر کیا
- سراسر عجز ہو کر خانہ مانند کماں خالی
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- زبان شمع خلوت خانہ دیتی ہے جواب اس کا
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- آئینہ خانہ ز سیل اشک ہر ویرانہ تھا
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- طاؤس نے اک آئنہ خانہ رکھا گرو
- ساز عیش بے دلی ہے خانہ ویرانی مجھے
- تا چند ناز مسجد و بت خانہ کھینچیے
- دل در رکاب صحرا خانہ خراب صحرا
- ہر ذرہ یک دل پاک آئینہ خانہ بے خاک
- کہ ہے آبادی صحرا ہجوم خانہ بردوشاں
- آئنہ خانہ مری تمثال کو زنجیر ہے
- رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
- خانہ ویراں سازی حیرت تماشا کیجیے
- آئینہ خانہ وادیٔ جوہر غبار تھا
- آئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
- خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ہیں ورق گردانیٔ نیرنگ یک بت خانہ ہم ہم
- جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
- بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع ماتم خانہ ہم
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
- زہد گردیدن ہے گرد خانہ ہائے منعماں
- نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں
- گدائے کوچۂ مے خانہ نا مراد نہیں
- ہوئی ہے مانع ذوق تماشا خانہ ویرانی
- خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہ
- دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
- کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
- خانہ زاد اور مرید اور مداح
- گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں
- خانہ ویرانی امید و پریشانی بیم
- شکل طاؤس کرے آئنہ خانہ پرواز
- تو کہے بت خانہ آزر کھلا
- خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں
- خانہ گھر ہے اور کوٹھا بام ہے