خامہ
22 Misre
- خامہ میرا تخت سلطان سخن کا پایہ ہے
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ رنجور ہے
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ جانکاہ ہے
- ہے خامہ فیض بیعت بیدل بکف اسدؔ
- خامہ میرا شمع قبر کشتگاں کا دودہ ہے
- عصاے خضر صحراے سخن ہے خامہ بیدل کا
- سر معنی بہ گریبان شق خامہ اسدؔ
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- لغزش رفتار خامہ مستی تحریر ہے
- پریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی
- انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
- عصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا
- ہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا
- خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن
- غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
- ہے صریر خامہ ریزش ہائے استقبال ناز
- نال خامہ خار خار خاطر آغاز ہے
- مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے
- خامہ نخل رطب فشاں ہوجائے
- ہے قلم کا فارسی میں خامہ نام