خاطر
32 Misre
- اسدؔ خوباں بھی دور چرخ سے رنجیدہ خاطر ہیں
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- حسرتیں کرتی ہے میری خاطر آزاد گل
- چاہیے خاطر جمع و دل آرامیدہ
- پیچ تاب دل نصیب خاطر آگاہ ہے
- بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
- غنچۂ خاطر رہا افسردگی مانوس و بس
- دشت ساماں ہے غبار خاطر آزردگاں
- دلا عبث ہے تمناے خاطر افروزی
- کشود غنچۂ خاطر عجب نہ رکھ غافل
- صہبا فتادہ خاطر و مینا شکستہ دل
- ہواے پر فشانی برق خرمن ہاے خاطر ہے
- پر فشانی بھی فریب خاطر آسودہ ہے
- غضب ہے گر غبار خاطر احباب ہوجاوے
- ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
- اڑی ہے صفحۂ خاطر سے صورت پرواز
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے
- شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ
- نال خامہ خار خار خاطر آغاز ہے
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
- دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا
- بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار کلفت خاطر
- شکیب خاطر عاشق بھلا کیا
- ہے کشاد خاطر وابستہ در رہن سخن
- جمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل
- جز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے
- دست خالی و خاطر غمگیں
- می برد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست