خار
73 Misre
- شمع ہوں لیکن بپا در رفتہ خار جستجو
- بجاے غنچہ و گل ہے ہجوم خار و خس یاں تک
- نگہ آشناے گل و خار ہیں ہم
- بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- وگر نہ مثل خار خشک مردود گلستاں ہیں
- بہ پائے خفتہ سیر وادی پر خار بستر ہے
- خار پیراہن رگ بستر کو نشتر ہو گیا
- خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
- یارب کہ خار پیرہن آرزو نہ ہو
- اے خار دشت دامن شوق رمیدہ کھینچ
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- ہے زبان پاسباں خار سر دیوار باغ
- نے زبان غنچہ گویا نے زبان خار باغ
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژہ خار ہنوز
- خار سے گل سینہ افگار جفا ہے اے اسدؔ
- آرزو ہا خار خار چین پیشانی عبث
- تکلف خار خار التماس بے قراری ہے
- ہے رگ سنگ فسان تیغ شعاہ خار و خس
- نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گر نہ خار آتش
- ہیں خار راہ جوہر تیغ عسس تمام
- مژگان چشم دام ہوئے خار و خس تمام
- جوے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- زدست مشت پر و خار آشیاں فریاد
- حباب بحر کے ہے آبلوں میں خار ماہی کا
- پاے نگاہ خلق میں خار خلیدہ ہوں
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- میں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوں
- فال ہستی خار خار وحشت اندیشہ ہے
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- خار الم سے پشت بدنداں گزیدہ ہوں
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
- کسوت ایجاد بلبل خار خار نغمہ ہے
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- جانشین جوہر آئینہ ہے خار چمن
- کہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
- کہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے
- بہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
- نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
- تکلف خار خار التماس بے قراری ہے
- بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- حالانکہ طاقت خلش خار بھی نہیں
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- رشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھا
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- جوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- برنگ خار مرے آئنہ سے جوہر کھینچ
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- خار خار الم حسرت دیدار تو ہے
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ خار ہنوز
- خار پا ہیں جوہر آئینۂ زانو مجھے
- نال خامہ خار خار خاطر آغاز ہے
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- خار گل بہر دہان گل زباں ہو جائے گا
- گرمیٔ نبض خار و خس آشیاں نہ پوچھ
- بار ور جس کا سرو گل بے خار
- شاخ گلبن پہ صبا چھوڑ کے پیراہن خار
- لالہ ہا داغ برافگندہ و گل ہا بے خار
- مغز کہسار میں کرتا ہے فرو نشتر خار
- گرمی شعلۂ رفتار سے جلتے خس و خار
- جوش جوہر سے دل آئنہ گلدستۂ خار
- یک طرف نازش مژگان و دگر سو غم خار
- جو ہو جاوے نثار برق مشت خار و خس بہتر
- خار کانٹا داغ دھبہ نغمہ راگ