حیف
25 Misre
- حیف ہے ان کو جو سمجھیں زندگانی مفت ہے
- حیف بے حاصلی اہل ریا پر غالبؔ
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بخط غبار حیف
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- تھا محمل نگاہ بدوش شرار حیف
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- مجبوریاں تلک ہوے اے اختیار حیف
- اے ناتمامی نفس شعلہ بار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- حیف اے تنگ تمنا کہ پئے عرض حیا
- حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
- مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف
- اے نا تمامی نفس شعلہ بار حیف
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- تھا محمل نگاہ بہ دوش شرار حیف
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہے